جو لفظ دل توڑ دے، وہ لفظ نہیں، زہر ہے
جو لفظ دل توڑ دے، وہ لفظ نہیں، زہر ہے
اکبر زاہد
عصرِ حاضر میں زبان اور قلم کے استعمال کا شعور کم ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر دیکھی ہوئی بات کو کہہ دینا ہی سچائی کی معراج ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مشاہدہ اور بصیرت دو الگ چیزیں ہیں۔ نگاہ اگر دل کی روشنی سے عاری ہو تو وہ صرف ظاہر دیکھتی ہے، باطن تک رسائی نہیں کر پاتی۔
اپنے آپ کو فتنہ پرداز کہنا یا فخر سے یہ اعلان کرنا کہ ’’جو دیکھتا ہوں وہی کہتا ہوں‘‘ دراصل اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ زبان نے خیر کے بجائے شر کو اپنا ہدف بنا لیا ہے۔ فساد کا دوسرا نام یہی ہے کہ الفاظ لوگوں کے دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے لگیں۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
"وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ"
(اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا) (البقرہ: 205)
حقیقی بصیرت یہ ہے کہ انسان اپنی زبان اور قلم کو عدل، خیر اور اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ اگر الفاظ تلخی اور تفرقے کو جنم دیں تو وہ خیر نہیں رہتے، زہر بن جاتے ہیں۔ اور اگر الفاظ دلوں کو جوڑیں، محبت کو ابھاریں اور خیر کے چراغ روشن کریں تو وہ صدقۂ جاریہ بن جاتے ہیں۔
زبان اور قلم کی امانت یہی ہے کہ وہ معاشرے کو اجالے عطا کریں، نہ کہ اندھیرے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے الفاظ کو شعلہ نہ بنائے جو دلوں کو جلا ڈالے، بلکہ چراغ بنائے جو قلوب کو منور کرے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں