تُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَن تَشَاءُ
عزت، وقار اور
بندگی کا امتحان
از: اکبر زاہدؔ
**وَ تُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَن تَشَاءُ —**
دنیا کے اس
فانی تماشے میں انسان کی اصل آزمائش *اقتدار یا دولت* نہیں،بلکہ **انا** ہے
وہ نادیدہ پردہ جو بندے کو اپنے خالق سے جدا کر دیتا ہے۔جب یہ پردہ اٹھتا ہے تو انسان عاجزی میں ڈوب جاتا ہے،اور جب یہ گرتا ہے تو انسان خود کو خدا کے برابر سمجھنے لگتا ہے۔
ایسے ہی وقتوں
میں کوئی شخص علم و ادب کے دامن میں بیٹھ کر بھی
لفظوں کو
**الزام**، جملوں کو **زخم**،
اور نصیحت کو
**تضحیک** کا رنگ دے دیتا ہے۔
مگر اہلِ دل
جانتے ہیں کہ
**حق کی
پہچان شور میں نہیں، سکوت میں ہوتی ہے۔**
**عزت اور ذلت کا فیصلہ انسان نہیں، رب کرتا ہے**
قرآن
کہتا ہے
*"تُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَن تَشَاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ"*
> (آل
عمران: 26)
یعنی “تو جسے
چاہے عزت دیتا ہے، اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے، سب بھلائی تیرے ہی اختیار میں ہے۔”
یہ آیت دراصل
انسان کے اندر کے **قاضی** کو جھنجھوڑتی ہےکہ اے انسان! تو جس پر فیصلہ صادر کرتا
ہے،
کیا اُس کے دل
کے راز جانتا ہے؟
کیا تُو اُس نیت سے واقف ہے جو اُس کے عمل کے پیچھے تھی؟
حضرت **جنید بغدادیؒ** فرمایا کرتے تھے
*“عزت وہ
نہیں جو لوگوں کے لبوں پر ہو،
بلکہ عزت وہ
ہے جو دلوں میں اللہ ڈال دے۔”*
(رسالہ قشیریہ، باب
التواضع)
**جب انا، صداقت کا لباس پہن لے**
کبھی کبھی
جھوٹی انا “ضمیر” کے بھیس میں آ جاتی ہے۔
وہ کہتی ہے:
“میں حق بول رہا ہوں، میں معاشرے کی اصلاح چاہتا ہوں،”
مگر دراصل وہ
*انتقام، تکبر اور خود نمائی* کا ایک ہنر دکھا رہی ہوتی ہے۔
حضرت **شیخ
عبدالقادر جیلانیؒ** نے فرمایا
*“جو اپنے
نفس کو پاک سمجھتا ہے، وہ دراصل سب سے زیادہ ناپاک ہے۔”*
(الفتح الربانی، مجلس ۶۳)
اور حضرت
**رومیؒ** نے مثنوی میں کہا
*“خود
راستی، بدترین دروغ است.”*
یعنی “اپنے آپ
کو سچا سمجھنا، سب سے بڑا جھوٹ ہے۔”
جو شخص کسی ادارے، مجلس یا ذمہ دار پرغیرمصدقہ الفاظ کے تیر چلائے، اور پھر “روزِ محشر کی جوابدہی” کا فرمان سنائے، وہ بھول جاتا ہے کہ *روزِ محشر کے قاضی کا نام انسان نہیں بلکہ اللہ ہے!
**علمی ادارے – قوم کی امانت، انا کا میدان نہیں**
جن اداروں نے
صدیوں تک قوم کے لیے چراغ جلائے،
جن کے ستونوں
میں مخلصوں کے پسینے کی خوشبو ہے،
انہیں بدعنوان
کہنا دراصل اپنے ہی ماضی کی توہین ہے۔
اگر کوئی
اصلاح چاہتا ہے تو دروازہ ادب سے کھٹکھٹائے،
نہ کہ الزام کے پتھروں سے۔
حضرت **شیخ
ابوسعید ابوالخیرؒ** فرمایا کرتے تھے
*“اصلاح
شور سے نہیں آتی، خاموشی سے آتی ہے؛
کیونکہ شور
میں نفس بولتا ہے، خاموشی میں حق بولتا ہے۔”*
(اسرار التوحید، باب الزہد)
**وقار سے دیا گیا جواب، نصف عبادت ہے**
میں اس موقع
پر کسی کے خلاف نہیں،بلکہ **وقار کے حق میں** چند اصول یاد دلاتا ہوں۔
اصلاح، اگر دل
سے ہو، تو اس کا لہجہ نرمی سے بھرا ہوتا ہے۔
اور اگر لہجہ میں تلخی ہے،تو سمجھ لو نیت میں کچھ دھندلا پن ہے۔
اسلام کہتا ہے
*"فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا"*
(طٰهٰ: 44)
"نرم بات کہو۔"
حضرت **حسن
بصریؒ** فرماتے ہیں
*“مومن کی
پہچان یہ ہے کہ وہ جب کسی کو نصیحت کرے تو چہرے سے نہیں، دل سے کرے۔”*
(حلیۃ الاولیاء، جلد ۲)
**محشر کی وعید سے زیادہ، محبت کی دعوت دو**
یہ کہنا کہ
“اگر فلاں کو ووٹ نہ دیا تو تم روزِ محشر جواب دہ ہوگے” —
یہ وہ جملہ ہے
جو بندگی کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے۔
محشر کا ذکر
ڈرانے کے لیے نہیں،
بلکہ دلوں کو
جھکانے کے لیے ہوتا ہے۔
جو اسے ہتھیار
بنائے،
وہ ایمان کے
بجائے *اختیار* کی بات کرتا ہے۔
حضرت **مولانا
جلال الدین رومیؒ** فرماتے ہیں
(مثنوی، دفتر دوم)*“محبت کے بغیر جو نصیحت کی جائے، وہ دل پر بوجھ بن جاتی ہے۔”*
**انجامِ
سخن**
میں صرف یہ
کہنا چاہتا ہوں کہ
کبھی کبھی
*خاموشی* سب سے بڑا جواب ہوتی ہے۔کیونکہ خاموشی میں وہ وقار ہے،جو شور میں نہیں،
اور وہ اثر ہے
جو الفاظ کے شور میں کھو جاتا ہے۔
حضرت **بابا
فرید الدین گنج شکرؒ** نے فرمایا
*“جو تیرے
دل کو دکھائے، اس کے لیے بھی دعا مانگ
—
کہ یہی دل کی
صفائی کا پہلا زینہ ہے۔”*
(فریدیات،
ملفوظات)
ادب، علم، اور
شائستگی —
یہی وہ تین چراغ
ہیں جن سے معاشرے کے اندھیرے روشن ہوتے ہیں۔
اور جو ان
چراغوں کو بجھانے کی کوشش کرے،
وہ خود تاریکی میں رہ جاتا ہے۔
اب بس دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ
’’اے ربِ عظیم !
ہمیں وہ بینائی عطا کر جو نیتوں کے پردے دیکھ سکے، وہ زبان دے جو عزت کو بڑھائے،
وہ دل دے جو
اصلاح کرے مگر رسوا نہ کرے،اور وہ عقل دے جو ہر رائے سے پہلے عدل کو ترازو بنائے۔ ہم
تیرے بندے ہیں،
ہماری قلموں
میں تیرے نور کی لکیریں ڈال دے،
تاکہ ہم جہاں
بھی لکھیں، وہاں **امن، ادب اور سچائی** کے بیج بوئیں۔آمین۔‘‘
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں