خود فریبی کا المیہ

 

خود فریبی کا المیہ

 

*از: اکبر زاہد*

 

ہمارے ہر شہر، ہر گلی، اور ہر محفل میں چند لوگ ایسے ضرور پائے جاتے ہیں جو زندگی کے اصل شعور سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ حضرات آئینے میں اپنی صورت دیکھنے سے تو کتراتے ہیں مگر دوسروں کے چہروں پر معمولی سا داغ بھی انہیں کوہِ ہمالیہ جتنا بڑا دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو ہر گلی کی گرد کو آندھی قرار دیتا ہے اور اگر کوئی ذرا سا بھی اختلاف کرے تو   اُسے سازش کا نام دیتا ہے۔

ان کی دنیا میں نہ کوئی سکون ہے نہ خوشبو۔ وہ ہر طرف بگاڑ دیکھتے ہیں، لیکن اپنی ذات کی دراڑوں پر کبھی نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کرتے۔ بالکل ڈان کیوئیزٹ کی مانند—جو ہوا کے جھونکوں کو تلواروں کا وار سمجھ کر سایوں سے لڑتا رہا—یہ حضرات بھی اپنی تخیلاتی جنگوں میں معاشرے کو گھسیٹتے رہتے ہیں۔

یہ خود کو اصلاح کا علمبردار کہتے ہیں مگر دراصل سوسائٹی کے سب سے بڑے بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ ان کی تقریریں، بیانات اور دعوے معاشرے کو اصل مسائل سے غافل کر دیتے ہیں۔ لوگ روزمرہ کی مشکلات سے نمٹنے کے بجائے انہی فرضی دشمنوں سے لڑنے لگتے ہیں جنہیں یہ صاحبان تخلیق کرتے ہیں۔ یوں قومی شعور دب جاتا ہے اور اجتماعی ترقی رُک جاتی ہے۔ گویا ان کی خود فریبی صرف ان کی ذاتی الماری کا مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ پورے سماج کو زنجیروں میں جکڑ دیتی ہے۔

تاہم تاریخ کی عدالت ہمیشہ فیصلہ سناتی ہے۔ ایسے لوگ آخرکار اپنی ہی باتوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ جو تلواریں وہ دوسروں پر تانتے ہیں، وہی ان کے سینے میں اترتی ہیں۔ آخر میں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ معاشرہ انہیں ایک مضحکہ خیز کردار کے طور پر یاد رکھتا ہے، جیسے کسی ٹوٹے ہوئے تماشے کا مداری۔ نہ عزت باقی رہتی ہے نہ وقار، بس ماضی کا ایک بوسیدہ حوالہ۔

خود فریبی کی اس روش کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی اتارنے کے لیے تیار ہیں، یا پھر آنے والی نسلیں ہمیں بھی ڈان کیوئیزٹ کے رشتے دار کے طور پر یاد کریں گی؟

 

تبصرے