راشٹراپتی بھون میں ’’مغل گارڈن‘‘ کا نام بدل کر ’’امرت ادھیان‘‘ کا نام رکھنا بدنیتی پر مبنی ہے
پروفیسر یم۔ ہچ۔ جواہر اللہ نے دیا مذمتی بیان
جنوری ۲۹، چنئی:۔ منیدیانا مکل کٹچی کے صدر پروفیسر یم۔ ہچ۔ جواہر اللہ نے یہاں مرکزی سرکار کی جانب سے راشٹراپتی بھون میں موجود مغل گارڈن کے نام کو تبدیل کرکے امرت ادھیان کا نام رکھنا دراصل بدنیتی پر مبنی ہے۔ مرکزی حکومت نے مغل گارڈن کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پروفیسر جواہر اللہ کا کہنا ہے کہ جس طرح راشٹرپتی بھون کا ڈھانچہ ہندوستانی اور , مغربی طرزِ تعمیر کا ایک نمونہ ہے لوٹین نے اس باغ کو بھی برٹش اور مغل طرز پر تعمیر کیا تھا۔
دوسری جانب بی جے پی ترجمان سمپت پترا نے نام کی تبدیلی کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امرت دور میں غلامانہ ذہنیت سے باہر نکلنے کے لئے یہ ضروری تھا۔ انہوں مزید یہ بھی کہا کہ غلامانہ ذہنیت سے باہر نکلنے کے لئے یہ مودی حکومت کا ایک اور نڈر فیصلہ ہے۔
جواہر اللہ نے کہا ہے کہ بی جے پی کا رویہ صریح مذہبی بنیاد پرستی ہے۔ نام صرف اس لئے بدل رہے ہیں کہ اس گارڈن کا نام مغل ہے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی کس قدر متعصب ہے۔ اگر بی جے پی کے جواز کو مان لیا جائے تو صدر ہند کو راشٹراپتی بھون چھوڑ کر باہر آجانا ہوگا کیونکہ راشٹراپتی بھون بھی غلامانہ ذہنیت کی نشانی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں