اب مساجد کی حفاظت ہم خود کرینگے: توحید جماعت کا اعلان
بابری مسجد پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف 4 جنوری کو چنئی اور مدورئے میں احتجاجی کانفرنس
وانمباڑی؛ اکبر زاہد
ٹمل ناڈو توحید جماعت نے اپنی ضلعی جلسہ عام میں یہ اعلان کیا ہے کہ اب مساجد کی حفاظت کا کام اسے خود کرنا ہوگا۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹمل ناڈو توحید جماعت کے نائب صدر مولوی کووئی آر رحمت اللہ نے بتایا کہ بابری مسجد پر ہائی کورٹ کے فیصلہ سے سبھی مسلمانوں کوسخت مایوسی ہوئی ہے۔ اس فیصلہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے ہیں۔ صرف عقیدے کی بنیاد پر اگر فیصلے ہونے لگیں تو مظلوم کہاں جائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب ہمیں اپنے مساجد کی حفاظت کا انتظام خود ہی کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بابری مسجد پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف 4 جنوری کو چنئی اور مدورئے میں بیک وقت ایک عظیم الشان احتجاجی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آئے گا۔ جس میں ہم حکومت سے مطالبہ کرینگے کہ بابری مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کردیا جائے کیونکہ صرف مسلمان ہی اس کے صحیح حقدار ہیں۔ اگر انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے ہی انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکے تو ہم عدالتوں سے کیا امید رکھ سکتے ہیں۔ اسی لئے توحید جماعت نے اس مدعے کو اٹھایا ہے تاکہ حکومت کے سامنے مسلمانوں کے احساسات و
جذبات کو رکھا جاسکے اور مطالبہ کیا جائے کہ بابری مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کیا جائے۔
توحید جماعت کے بنیادی مقصد کا ذکر کرتے ہوئے رحمت اللہ صاحب نے بتایا کہ توحید ہی ہمارا واحد مقصد ہے۔ خدا کے بندوں تک خدا کا پیغام پہنچانا اور مسلمانوں کی زندگیوں میں دین کو قائم کرنا توحید جماعت کا اولین مقصد ہے۔ جماعت چاہتی ہے کہ مسلمان اپنی عملی زندگی میں خدا کے احکامات اور سنت نبوی پر عمل کرے اور اپنے تمام مسائل کا حل انہیں دونوں چیزوں میں تلاش کرے۔ صحابہ کا احترام کرے۔ دنیوی معاملات میں اسلامی اصولات پر عمل کرے۔ اس کے علاوہ توحید جماعت اس ملک میں مسلمانوں کو ان کا جائز حق دلانے کے لئے بھی کوشش کررہی ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو 3.5 فی صد ریزرویشن دلانے میں بھی توحید جماعت نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جماعت مختلف اضلاع اور شہروں میں خون عطیہ کیمپ منعقد کرتی ہے تاکہ ضرورت مندوں کو خون دستیاب ہوسکے۔ اس نے اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ بلڈ ڈونیشن کیمپ منعقد کئے ہیں اس کے علاوہ تین ہزار ایمرجنسی بلڈ کیمپ بھی منعقد کئے ہیں۔ اس طرح پورے ملک میں صرف توحید جماعت کو ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے سب سے زیادہ بلڈ ڈونیشن کیمپ منقعد کئے۔
ایک اور سوال کے جواب میں رحمت اللہ صاحب نے بتایا کہ توحید جماعت میں علماء کرام کی خاصی تعداد موجود ہے اور دستور کے مطابق صدارتی عہدوں پر صرف ایک عالم دین ہی فائز کیا جاسکتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اہم دینی امور میں کوئی فیصلہ لینے میں دقت نہ ہو۔ ابھی حال ہی میں جب آن لائن گفتگو کے دوران ایک شوہر نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق لکھ ڈالا تو یہ فتوی صادر کردیا گیا تھا کہ طلاق ہوگئی ۔ لیکن اس موقع پر توحید جماعت نے فورا اپنے علماء کرام سے رجوع کیا اور کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں یہ وضاحت کی گئی کہ اس طرح طلاق سنا دیتے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ اسی طرح اسلام میں چند بدعات داخل ہوگئی ہیں جنھیں دور کرنا توحید جماعت کا ایک اہم فریضہ ہوگا۔ اسلام میں موت کا سوگ تین دنوں سے زیادہ منانے کی اجازت نہیں لیکن یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ برسوں بلکہ صدیاں بیت جاتی ہیں اور سوگ منانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ محرم کے مہینے کو عام طور پر ماتم کا مہینہ مان کر حضرت امام حسین کی شہادت کا سوگ منایا جاتا ہے۔ سینہ کوبی کی جاتی ہے جس کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ محرم کی اس لئے اہمیت دی جاتی ہے کہ یہ اسلامی نیا سال ہے اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات کا مہینہ ہے۔ محرم کی دسویں تاریخ اور گیارھویں تاریخ کو اسی لئے روزہ رکھا جاتا ہے کہ فرعون سے نجات ملی تھی۔ لیکن اس کے برعکس عام لوگوں میں محرم کی اس فضیلت کا درک نہیں ہے۔ اسی طرح بہت سارے معاملات ہیں جن سے عام مسلمان ناواقف ہے ۔ توحید جماعت ان تمام خرافات کو مسلمانوں کی زندگییوں سے نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔ سود، چھوت چھات، جہیز اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف توحید جماعت نے ایک مہم چھیڑ رکھی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ مسلمان ان تمام برائیوں سے دور ہوجائیں٫
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ توحید جماعت فی الحال عملی سیاست میں آنے کا کوئی خیال نہیں رکھتی ہے تاہم وہ ان امیدواروں کی نشاندہی کرے گی جو اس کی نظروں میں قابل اعتماد ہونگے اور انہیں ووٹ دینے کی سفارش کرے گی۔ اردو زبان کے تعلق سے جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کا زیادہ تر لٹریچر صرف ٹمل زبان میں کیوں ہے اور کیا وہ اردو دان طبقہ تک اپنی بات پہنچانا نہیں چاہتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سلسلہ میں کاروائی جاری ہے اور کئی بروشرز اور کتابچے اردو زبان میں شائع کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توحید جماعت صرف کسی خاص زبان بولنے والوں کے لئے نہیں بلکہ پورے مسلمانوں کے لئے ہے اور اسی لئے وہ سبھی زبانوں میں اپنا لٹریچر فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔
بابری مسجد پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف 4 جنوری کو چنئی اور مدورئے میں احتجاجی کانفرنس
وانمباڑی؛ اکبر زاہد
ٹمل ناڈو توحید جماعت نے اپنی ضلعی جلسہ عام میں یہ اعلان کیا ہے کہ اب مساجد کی حفاظت کا کام اسے خود کرنا ہوگا۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹمل ناڈو توحید جماعت کے نائب صدر مولوی کووئی آر رحمت اللہ نے بتایا کہ بابری مسجد پر ہائی کورٹ کے فیصلہ سے سبھی مسلمانوں کوسخت مایوسی ہوئی ہے۔ اس فیصلہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے ہیں۔ صرف عقیدے کی بنیاد پر اگر فیصلے ہونے لگیں تو مظلوم کہاں جائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب ہمیں اپنے مساجد کی حفاظت کا انتظام خود ہی کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بابری مسجد پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف 4 جنوری کو چنئی اور مدورئے میں بیک وقت ایک عظیم الشان احتجاجی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آئے گا۔ جس میں ہم حکومت سے مطالبہ کرینگے کہ بابری مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کردیا جائے کیونکہ صرف مسلمان ہی اس کے صحیح حقدار ہیں۔ اگر انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے ہی انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکے تو ہم عدالتوں سے کیا امید رکھ سکتے ہیں۔ اسی لئے توحید جماعت نے اس مدعے کو اٹھایا ہے تاکہ حکومت کے سامنے مسلمانوں کے احساسات و
جذبات کو رکھا جاسکے اور مطالبہ کیا جائے کہ بابری مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کیا جائے۔
توحید جماعت کے بنیادی مقصد کا ذکر کرتے ہوئے رحمت اللہ صاحب نے بتایا کہ توحید ہی ہمارا واحد مقصد ہے۔ خدا کے بندوں تک خدا کا پیغام پہنچانا اور مسلمانوں کی زندگیوں میں دین کو قائم کرنا توحید جماعت کا اولین مقصد ہے۔ جماعت چاہتی ہے کہ مسلمان اپنی عملی زندگی میں خدا کے احکامات اور سنت نبوی پر عمل کرے اور اپنے تمام مسائل کا حل انہیں دونوں چیزوں میں تلاش کرے۔ صحابہ کا احترام کرے۔ دنیوی معاملات میں اسلامی اصولات پر عمل کرے۔ اس کے علاوہ توحید جماعت اس ملک میں مسلمانوں کو ان کا جائز حق دلانے کے لئے بھی کوشش کررہی ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو 3.5 فی صد ریزرویشن دلانے میں بھی توحید جماعت نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جماعت مختلف اضلاع اور شہروں میں خون عطیہ کیمپ منعقد کرتی ہے تاکہ ضرورت مندوں کو خون دستیاب ہوسکے۔ اس نے اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ بلڈ ڈونیشن کیمپ منعقد کئے ہیں اس کے علاوہ تین ہزار ایمرجنسی بلڈ کیمپ بھی منعقد کئے ہیں۔ اس طرح پورے ملک میں صرف توحید جماعت کو ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے سب سے زیادہ بلڈ ڈونیشن کیمپ منقعد کئے۔
ایک اور سوال کے جواب میں رحمت اللہ صاحب نے بتایا کہ توحید جماعت میں علماء کرام کی خاصی تعداد موجود ہے اور دستور کے مطابق صدارتی عہدوں پر صرف ایک عالم دین ہی فائز کیا جاسکتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اہم دینی امور میں کوئی فیصلہ لینے میں دقت نہ ہو۔ ابھی حال ہی میں جب آن لائن گفتگو کے دوران ایک شوہر نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق لکھ ڈالا تو یہ فتوی صادر کردیا گیا تھا کہ طلاق ہوگئی ۔ لیکن اس موقع پر توحید جماعت نے فورا اپنے علماء کرام سے رجوع کیا اور کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں یہ وضاحت کی گئی کہ اس طرح طلاق سنا دیتے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ اسی طرح اسلام میں چند بدعات داخل ہوگئی ہیں جنھیں دور کرنا توحید جماعت کا ایک اہم فریضہ ہوگا۔ اسلام میں موت کا سوگ تین دنوں سے زیادہ منانے کی اجازت نہیں لیکن یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ برسوں بلکہ صدیاں بیت جاتی ہیں اور سوگ منانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ محرم کے مہینے کو عام طور پر ماتم کا مہینہ مان کر حضرت امام حسین کی شہادت کا سوگ منایا جاتا ہے۔ سینہ کوبی کی جاتی ہے جس کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ محرم کی اس لئے اہمیت دی جاتی ہے کہ یہ اسلامی نیا سال ہے اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات کا مہینہ ہے۔ محرم کی دسویں تاریخ اور گیارھویں تاریخ کو اسی لئے روزہ رکھا جاتا ہے کہ فرعون سے نجات ملی تھی۔ لیکن اس کے برعکس عام لوگوں میں محرم کی اس فضیلت کا درک نہیں ہے۔ اسی طرح بہت سارے معاملات ہیں جن سے عام مسلمان ناواقف ہے ۔ توحید جماعت ان تمام خرافات کو مسلمانوں کی زندگییوں سے نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔ سود، چھوت چھات، جہیز اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف توحید جماعت نے ایک مہم چھیڑ رکھی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ مسلمان ان تمام برائیوں سے دور ہوجائیں٫
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ توحید جماعت فی الحال عملی سیاست میں آنے کا کوئی خیال نہیں رکھتی ہے تاہم وہ ان امیدواروں کی نشاندہی کرے گی جو اس کی نظروں میں قابل اعتماد ہونگے اور انہیں ووٹ دینے کی سفارش کرے گی۔ اردو زبان کے تعلق سے جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کا زیادہ تر لٹریچر صرف ٹمل زبان میں کیوں ہے اور کیا وہ اردو دان طبقہ تک اپنی بات پہنچانا نہیں چاہتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سلسلہ میں کاروائی جاری ہے اور کئی بروشرز اور کتابچے اردو زبان میں شائع کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توحید جماعت صرف کسی خاص زبان بولنے والوں کے لئے نہیں بلکہ پورے مسلمانوں کے لئے ہے اور اسی لئے وہ سبھی زبانوں میں اپنا لٹریچر فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں