پریار داسن نے اسلام قبول کرلیا



مشہور ٹمل اسکالر پریار داسن نے اسلام قبول کرلیا

مشہور اسکالر، شاعر اور ادیب پریار داسن نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ اس دہائی کو سب سے پیاری خبر ہے۔ کیونکہ پریار داسن جیسی شِخصیت کا اسلام قبول کرلینا کوئی معمولی خبر نہیں۔ اب وہ پروفیسر عبداللہ کہلائیں گے اور عرب نیوز کے مطابق وہ اللہ کی طرف سے اس نعمت کے عطا ہونے پر سب سے پہلے عمرہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔
جمعہ کے دن عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف اسلام ہی دنیا کا ایک ایسا مذہب ہے جو ایک ایسی کتاب کو مانتا ہے جو براہ راست خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
پریار داسن نے تقریبا 18 سال قبل وانمباڑی کے ایک عید ملن پروگرام میں حصہ لیا تھا جسے جماعت اسلامی ہند وانمباڑی شاخہ نے منعقد کیا تھا۔ اس اعتبار سے گویا پریار داسن کا اسلام سے تعلق اس سے پہلے ہی تھا۔ پریار داسن نے مخلتف مذاہب کا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور وہ دنیا کے تقریبا ہر مذہب کے تعلق سے معلومات رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں وہ دہریہ کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ لیکن جب سے وہ اسلام سے متعارف ہوئے دھیرے دھیرے انکے خیالات میں تبدیلی آنے لگی اور بالآخر وہ حق کو پہنچاننے میں کامیاب ہوگئے اور بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کی آغوش میں دے دیا۔
ڈاکٹر پریارداسن جو کہ اب پروفیسر عبداللہ ہیں، لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے وزیٹنگ پروفیسر ہیں۔ انہوں نے ایک مشہور ٹمل فلم میں کام بھی کیا ہے جس نے حکومت ہند سے نیشنل ایوراڈ حاصل کیا تھا۔
پروفیسر عبداللہ ہفتہ کے دن عمرہ کے لئے روانہ ہوچکے ہیں۔


مسلمان جب بھی متحد ہوئے انہیں کامیابی حاصل ہوئی
لازمی نکاح رجسڑیشن : مساجد کے دفتر نکاح کی کاپی
چند تبدیلیوں کے ساتھ قبول کی جائے گی: وزیر قانون دورے مروگن کا اعلان



ریاستی وزیر قانون دورے مروگن آمبور کے تہنیتی اجلاس میں عمائدین شہر سے خطاب کرتے ہوئے۔

آمبور؛ اکبر زاہد؛ مسلمان جب بھی متحد ہوئے انہیں ہمیشہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال لازمی نکاح رجسٹریشن کا معاملہ ہے جس میں مسلمانوں نے اپنے بھر پور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ اس کامیبابی سے خوش ہوکر واپس اپنی پرانی روش پر آنے کے بجائے مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہوجائیں تاکہ غیر ہمارے اختلافات کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
کل شہر آمبور کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر قانون شری دورے مروگن نے یہ اعلان کیا کہ لازمی نکاح رجسٹریشن کے تعلق سے مسلمانوں کے مطالبات چند ترمیمات کے ساتھ قبول کرلئے گئے ہیں اور حکومت مساجد میں نکاح رجسٹریشن کے دفتر کی کاپی قبول کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت چاہتی ہے کہ نکاح رجسٹریشن میں دولھا دولھن کی تصاویر ، انکی والدہ کا نام، پاسپورٹ نمبر بشرطیکہ انکے پاس پاسپورٹ موجود ہو، وغیرہ موجود ہو۔ چونکہ اس بات کو مسلمانوں کے دانشورطبقہ اور علماء کرام نے قبول کرلیا ہے اس لئے حکومت کو بھی مساجد کی طرف سے جاری کردہ نکاح رجسٹریشن کی نقل قبول کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
دورے مروگن یہاں آمبور شہر کو تعلقہ بنائے جانے پر انکے اعزاز میں دی گئے ایک تہنیتی تقریب سے خطاب کررہے تھے جو آمبور کی اہل سنت والجماعت نے منعقد کی تھی۔
اس موقع پر وزیر قانون نے نہایت انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ ان کا فرض تھا۔ اور انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کے لئے ایسی عظیم الشان تقریب منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے وزیر اعلی کروناندھی سے آمبور کو تعلقہ کا درجہ دینے کی بات کہی تو انہوں جواب میں کہا تھا کہ میں یہ کام تمہارے لئے تو نہیں البتہ آمبور کے لئے ضرور کروں گا۔ کروناندھی کے اس جواب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں آمبور سے کتنا لگاو ہے۔
انہوں نے کہا کہ آمبور میں پینے کے پانی کا مسئلہ بے حد اہم ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے اس بات کی کوشش ہورہی ہے کہ ہوگینکّل سے پانی کی فراہمی کی جائے۔
مزدور یونین کی طرف سے بار بار ہونے والے مسائل ، احتجاجات اور اس کے نتیجے میں ٹینریوں کا بند ہوجانا وغیرہ معاملات پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دورے مروگن نے کہا وہ عرصہ سے اس بات کے خواہش مند ہیں کہ اس سلسلہ میں مزدورں سے بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کوئی بھی مسئلہ کیوں نہ ہو اسے بآسانی بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ اگر مزدورں کو کوئی شکایت ہے تو مزدور ان سے براہ راست کبھی آکر بات کرسکتے ہیں اور وہ انکے مسائل حل کرنے کی کوشش کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فیکڑی کو بند نہیں ہونا چاہئَے کیونکہ یہ روزی روٹی کا مسئلہ ہے۔ اگر فیکٹر ی بند ہوجائے گی تو مزدور کیا کھائِں گے۔ مزدوروں کے مطالبات اپنی جگہ لیکن ان کے مطالبات کو وجہ سے انکی روزی روٹی بند نہیں ہونی چاہئَے۔ انہیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئَے کہ فیکٹری کے مالکان کروڑوں روپیہ اپنی فیکٹری میں لگاتے ہیں اور ہزاروں مزدوروں کو کام دیتے ہیں۔ اگر انکی فیکٹری بند ہوگئی تو ان ہزاروں مزدوروں کا کیا ہوگا؟
انہوں نے مزدوروں سے کہا کہ وہ انکے شہر کے وزیر ہیں اور مزدور اپنے تمام مسائل انکے سامنے بلا جھجک رکھ سکتے ہیں اور وہ ہمیشہ انکے مسائل دور کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔
مسٹر دورے مرگن نے دیگر مقررین اور عمائدین کی اس خواہش پر کہ آمبور میں ایک ٹریزری بھی قائم کی جائے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد اس تعلق سے غور کرینگے اور شہریان آمبور کی یہ خواہش بھی پوری ہوگی۔
قبل ازیں جناب مکہ رفیق احمد صاحب نے اپنے صدارتی خطبہ میں وزیر قانون دورے مروگن کا آمبور کو تعلقہ درجہ دینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ یہ شہریان آمبور کی دیرینہ خواہش تھی جسے دورے مروگن صاحب نے پورا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انکی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ آمبور کو ایک مثالی شہر بنایا جائے اور اسے خوب ترقی دی جائے۔ کیونکہ آمبور کی ترقی سے اسکے اطراف 70 کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے دیہات اور قریہ جات کی ترقی ہوگی۔انہوں نےکہا کہ حکومت ہند نے آمبور کو ایکسپورٹ کا بہترین مرکز یعنی سنٹر فار ایکسپورٹ ایکسسیلنس قرار دیا ہے۔ لیکن صرف آمبور کو ایک بہترین مرکز کا سرٹیفکیٹ دینے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کی ترقی کے لئے فنڈز کا الاٹ منٹ بھی ہونا چاہئے۔ جناب رفیق صاحب جنھیں پیار سے لوگ فریدہ بابو کہتے ہیں، نے یہ بھی کہا ہے آمبور میں 35000 مربع فیٹ زمین پر ایک بہت بڑا ٹریڈ سنٹر بھی تعمیر کیا جارہا ہے اور اس کا افتتاح انشاء اللہ 10 جولائی 2010 ء کیا جائے گا۔ اس موقع پر وانمباڑی حلقہ کے ایم ایل اے جناب ہچ عبدالباسط، سابق رکن پارلیمان ٹی اے محمد سخی ، آمبور میونسپل چئیرمین جناب وہ نذیر احمد صاحب اور جناب پروفیسر نثار احمد صاحب نے شری دورے مروگن کی خدمت میں تہنیتی کلمات پیش کرتے ہوئے انکا شکریہ ادا کیا۔
جلسہ کی کارروائی تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ عالی جناب این محمد سیعد صاحب نے مہمان خصوصی شری دورے مروگن کی شال پوشی کرتے ہوئے انہیں مومنٹو پیش کیا اور آخر میں ہدیہ تشکر جناب خطیب شہاب الدین صاحب نے پیش کیا۔
اس تقریب میں آمبور اور وانمباڑی کے عمائدین موجود رہے جن میں اہل سنت والجماعت کے صدر جناب خلیل الرحمن صاحب، جناب پیٹل محمد یوسف صاحب، جناب ٹی ایم خالد صاحب، جناب وی۔ ایس امان اللہ صاحب ، جناب فردوس صاحب، ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر جناب عبدالرشید صاحب ، جناب تمیم صاحب، جناب فاروق صاحب اور دیگر کئی حضرات شامل رہے۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں